Posts

Showing posts from October 20, 2018

اردو شاعری میں پھول کا تصور

Image
http://en.gravatar.com/wazirabad7 https://orig00.deviantart.net/…/1049_by_urdulover-dcpvuy3.g… اردو شاعری میں پھول کا تصورشہنشاہ غزل میر تقی میرؔ نے اپنے معشوق کی بے اعتنائی کا گلہ کرتے ہوئے کہا تھا ۔
پتاّ پتّا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
میرؔ نے اس ایک شعر میں اپنی ساری قلبی کیفیت کو بیان کرڈالا اور دو مصرعوں میں انہوں نے ایسا درد بیان کیا جو کئی صفحات پر بھی شاید بیاں نہ کیا جاسکے ۔ میرؔ نے دنیا کو باغ اور یہاں بسنے والوں کو پتا اور بوٹا کہا ہے جب کہ اپنے محبوب کو گل سے تعبیر کیا ہے اور شکایت کی ہے کہ سب میرے احوال سے واقف ہیں بجز میرے محبوب کے ۔ اردو کے ممتاز شاعر اسداللہ خان غالبؔ نے اپنے محبوب کے دیدار کو گلوں کی رعنائی سے تعبیر کیا ہے ۔ کہتے ہیں۔بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشہ غالبؔ
چشم کو چاہئے ہر رنگ میں وا ہوجانا
غالبؔ کہتے ہیں کہ محبوب کے حسن میں وہ دلکشی ہے کہ نظر میں کچھ اور سماتا ہی نہیں دل چاہتا ہے کہ بس دیکھتے جائیں اور اپنی آنکھوں کو راحت کا سامان پہنچائیں ۔ اس شعر میں غالبؔ نے یہ بھی کہا ہے کہ آنکھیں وہی دیکھتی ہیں جو انسان اسے دکھ…