Posts

Showing posts from August 27, 2018

شاعر ناصر وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

Image
http://en.gravatar.com/wazirabad7 شاعر ناصر کاظمی
وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
مرا علاج میرے چارہ گر کے پاس نہیں
تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر
میرے لیے کوئی شایانِ التماس نہیں
تیرے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہے
میرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں
کبھی کبھی جو تیری قرب میں گزارے تھے
اب ان دنوں کا تصور بھی میرے پاس نہیں
گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ دل
سحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں
مجھے یہ ڈر ہے تیری آرزو نہ مٹ جائے
بہت دنوں سے طبیعت میری اداس نہیں
https://sta.sh/015w6eag5bbg